حدیث نمبر: 2410
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " شَهْرُ الصَّبْرِ ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوعثمان سے روایت ہے کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” صبر کے مہینے کے ، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں “ ۔

وضاحت:
۱؎: صبر کے مہینہ سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13621) ، مسند احمد 2/263، 384، 513 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2410]
اردو حاشہ: رمضان المبارک کے روزے تو فرض ہیں۔ باقی ہر مہینے سے تین روزے ثواب کے لحاظ سے پورے مہینے کے برابر ہیں۔ رمضان المبارک کو صبر کا مہینہ فرمایا گیا ہے کیونکہ روزہ نام ہی صبر کا ہے۔ کھانے پینے سے صبر، شہوت سے صبر، جھگڑے اور گالی گلوچ سے صبر۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2410 سے ماخوذ ہے۔