سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : صِيَامِ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ باب: مہینے میں چار دن روزہ رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” دو دن رکھ لیا کر ، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا “ ، میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو آپ نے فرمایا : ” چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے “ ۔