سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ قَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ : " وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " .
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزے رکھے ، اور نہ ہی افطار کیا “ ۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا ، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے “ ، انہوں نے کہا : اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: ” اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا۔“ (راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” کیا اس کی کوئی ط۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]