سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي الْخَبَرِ فِيهِ باب: اس حدیث میں عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے ، اور نہ افطار کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2376]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2376]
اردو حاشہ: ”نہ اس نے روزہ رکھا۔“ یعنی اسے کسی روزے کا ثواب نہ ملا۔ معلوم ہوا عبادات میں غلو کرنا اور حد سے تجاوز کرنا انھیں بے اجر بنا دیتا ہے۔ ”نہ افطار کیا۔“ یعنی وہ افطار (روزہ نہ رکھنے) کے فوائد سے بھی محروم رہا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2376 سے ماخوذ ہے۔