سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2361
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روزہ رکھتے جاتے تھے ، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں ، اور ( مسلسل ) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔