سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِكَ باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2342
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ " , أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مالک نے اسے منقطعاً روایت کیا ہے، کیونکہ زہری نے عائشہ رضی الله عنہا کو نہیں پایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2342]
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2342]
اردو حاشہ: انقطاع سے مراد یہ ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ روایت زہری عن عائشہ وحفصہ رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے۔ ظاہر ہے کہ امام زہری کا حضرت عائشہ سے سماع ہے نہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2342 سے ماخوذ ہے۔