سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِكَ باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2335
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَشْهَبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , وَذَكَرَ آخَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَهُمَا , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلَا يَصُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1700 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت موقوفاً صحیح ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 30، 25/4، رقم: 914)
بنا بریں رات سے نیت کرنے کا مطلب شام سے کرنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چاہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جائے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے
(2)
یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھا ہوا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
(3)
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت موقوفاً صحیح ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 30، 25/4، رقم: 914)
بنا بریں رات سے نیت کرنے کا مطلب شام سے کرنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چاہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جائے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے
(2)
یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھا ہوا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
(3)
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1700 سے ماخوذ ہے۔