سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ . باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2331
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟ " نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، اور ان سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔