سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ . باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَارَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوْرَةً ، قَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَتْ : لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ ، قَالَ : " فَأَنَا صَائِمٌ " ، قَالَتْ : ثُمَّ دَارَ عَلَيَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! دَخَلْتَ عَلَيَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا ، قَالَ : " نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ ، أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، أَوْ فِي التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ ، فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ ، فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا : ” تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے ؟ “ میں نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے ، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا ، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا ، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں عائشہ ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو ، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا ، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا “ ۱؎ ۔