حدیث نمبر: 2321
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصوم40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم40 (2399)، سنن ابن ماجہ/الصوم13 (1696)، (تحفة الأشراف: 17777)، موطا امام مالک/الصوم20 (54) ، مسند احمد 6/124، 179 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2321]
اردو حاشہ: گویا دس ماہ بعد شعبان میں سابقہ رمضان المبارک کے رہ جانے والے روزوں کی قضا ادا کرتی تھیں۔ اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرض روزوں کی قضا ادا کرنا فوراً ضروری نہیں، سارے سال میں کسی بھی وقت قضا ادا کرنا ممکن ہے، لیکن جلدی قضا کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہی افضل ہے بیماری یا موت کا کوئی پتا ہے؟ وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ کو قضا ادا کرنا معاف نہیں بلکہ وہ روزے بہر صورت بعد میں رکھنے ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ سے قضا ادا کرنے کی تاخیر کا سبب بھی منقول ہے کہ ایسا نہ ہو، نبی اکرمﷺ کو میری ضرورت محسوس ہو اور میں روزے سے ہوں۔ شعبان میں رسول اللہﷺ بھی اکثر روزے سے ہوتے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 2180)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2321 سے ماخوذ ہے۔