سنن نسائي
ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه— ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
بَابُ : ذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْغُسْلِ باب: کتنا پانی آدمی کے غسل کے لیے کافی ہو گا؟
حدیث نمبر: 231
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قال : تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ " ، قُلْنَا : مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ ، قَالَ جَابِرٌ : " قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو جعفر کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ہم نے کہا : ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہو گا ، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ۱؎ جو تم سے زیادہ اچھے ، اور زیادہ بالوں والے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه / حدیث: 231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 93 | سنن ابن ماجه: 269 | مسند الحميدي: 1301