حدیث نمبر: 2294
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ : الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَيُفْطِرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ` میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اپنی آسانی دیکھ کر جیسا مناسب سمجھے کرے، اللہ نے نہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2292 (صحیح) (اس کے راوی عوام ضعیف ہیں، لیکن اگلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2365 | سنن نسائي: 2295

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2365 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان۔`
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: اپنے دشمن (سے لڑنے) کے لیے طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2365]
فوائد ومسائل:
(1) سفر یا جہاد میں روزہ افطار کرنا افضل ہے۔

(2) دوران سفر میں روزہ رکھا بھی جا سکتا ہے۔

(3) گرمی یا پیاس کی بے چینی میں اپنے سر یا جسم پر پانی ڈالنا، غسل کرنا یا گیلا کپڑا اوڑھنا مباح ہے۔
اور ایسے ہی ایرکنڈیشن سے فائدہ حاصل کرنا بھی جائز ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2365 سے ماخوذ ہے۔