حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں :` سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9719-ألف) (ضعیف)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حدیث نبوی سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے کا ذکر۔`
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2288]
اردو حاشہ: یہ روایت زیادہ سے زیادہ موقوف (یعنی صحابی کا قول) ہے، علاوہ ازیں تینوں روایات سنداً ضعیف ہیں، نیز روایت: 2286 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کے قائل کا بھی علم نہیں کہ کون ہے۔ ویسے بھی اس قول کا مطلب مندرجہ بالا مرفوع احادیث کے مخالف نہیں لیا جا سکتا، یعنی اگر سفر میں روزہ انتہائی مشقت کا سبب ہو جس سے روزے دار عاجز آجائے اور دوسروں کے لیے مصیبت کا سبب بنے تب سفر میں روزہ رکھنا مناسب نہیں ورنہ جائز ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔ کسی قول کا ایسا مطلب نہیں لیا جا سکتا جو صریح حدیث کے خلاف ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2288 سے ماخوذ ہے۔