سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2283
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ : " هَلُمَّ " ، قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ " , قُلْتُ : وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ قَالَ : " الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ` میں مسافر تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا ، آپ نے فرمایا : آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے اور آدھی نماز کی “ ۔