سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2281
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ : " هَلُمَّ " , قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ " , قُلْتُ : وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ : " الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ` میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں روزے سے تھا ، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ “ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” ادھر آؤ ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے “ ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی ، اور آدھی نماز کی ۔
وضاحت:
۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔