سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2279
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى , قَالَ : " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " , فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی کہتے ہیں :` میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے کہا : آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے ، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔