سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالاِخْتِلاَفِ، عَلَى الأَوْزَاعِيِّ فِي خَبَرِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فِيهِ باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2270
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ " , قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , فَقَالَ : " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : ” اے امیہ ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لیتے “ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : ( میرے قریب ) آ جاؤ ۔ ” میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں ( شریعت کا حکم ) بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے ، اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔