حدیث نمبر: 2266
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ , فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " أَدْنِيَا فَكُلَا " ، فَقَالَا : إِنَّا صَائِمَانِ ، فَقَالَ : " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران ( مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ) میں کھانا لایا گیا ، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ ، انہوں نے عرض کیا : ہم روزہ سے ہیں ، تو آپ نے لوگوں سے کہا : ” اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو ، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن وهو مدلس،والصواب أنه مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج حدیث «مسند احمد 2/336 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے) میں کھانا لایا گیا، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ ، انہوں نے عرض کیا: ہم روزہ سے ہیں، تو آپ نے لوگوں سے کہا: اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2266]
اردو حاشہ: مذکورہ حدیث کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے، جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم، نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے اگلی دونوں روایتوں کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 21/ 161۔163، وسلسلة الأحادیث الصحیحة: 1/ 168۔ 170، رقم: 85 و صحیح سنن النسائي: 2/ 132، 133، رقم: 2263-2265)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2266 سے ماخوذ ہے۔