سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فِي الْخَبَرِ فِي ذَلِكَ باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2247
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2840 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2840. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت کے برابر دوزخ کی آگ سے دور کردے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2840]
حدیث حاشیہ: مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒیہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں لفظ في سبیل اللہ زیادہ تر جہاد ہی کے لئے بولا گیا ہے۔
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2840 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2840 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2840. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت کے برابر دوزخ کی آگ سے دور کردے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2840]
حدیث حاشیہ:
1۔
اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔
2۔
حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
1۔
اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔
2۔
حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2840 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1153 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سنا: ’’جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کردے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2713]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1153 سے ماخوذ ہے۔