سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي صَالِحٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، إِذَا كَانَ يَوْمُ صِيَامِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا : إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصَوْمِهِ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، روزہ ڈھال ہے ، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے ، شور و شغب نہ کرے ، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں ، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے : ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے ، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے (بھائی) میں روزے سے ہوں، (مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2218]
(2) ”نہ شہوانی بات کرے۔“ گویا یہ چیزیں روزے کی ڈھال میں سوراخ کرنے والی ہیں جس سے ڈھال ناکارہ ہو جائے گی۔
(3) ”وہ کہہ دے۔“ یعنی لڑائی کرنے والے سے کہے تاکہ اسے شرم آئے۔ یا اپنے دل میں کہے، اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے، پہلا مفہوم الفاظ حدیث کے زیادہ قریب ہے۔
یعنی اللہ نےخود ایسا ایسا فرمایا ہے۔
یہ اس کا کلام ہے جو قرآن کےعلاوہ ہے۔
اس سے بھی کلام الہی ثابت ہوا اور معتزلہ جہمیہ کا رد جو اللہ کے کلام کرنے سے منکر ہیں۔
ترجمہ باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس حدیث کو اللہ کا کلام فرمایا۔
1۔
ان دونوں احادیث قدسیہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام صرف قرآن مجید کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے حسب موقع کلام کرتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ احادیث کے مضامین کو اللہ تعالیٰ کا قول قرار دیا ہے حالانکہ یہ احادیث قرآن کریم کے علاوہ ہیں۔
اس سے معتزلہ اور جہمیہ کی تردید بھی مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
2۔
قبل ازیں عنوان میں ایک آیت کا حوالہ تھا، چنانچہ مسلمان صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت رنجیدہ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں بلاشرکت غیرے ایک فتح حاصل ہوگی جبکہ منافقین اس وعدے کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ کا کلام تھا جو قرآن مجید کے علاوہ تھا۔
واللہ أعلم۔
مجتہد اعظم حضرت امام بخاری کا یہ اجتہاد بالکل درست ہے۔
(1)
’’روزہ اللہ کے لیے ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت روزے سے نہیں کی گئی کیونکہ کفارومشرکین نے کسی وقت بھی معبودان باطلہ کی عبادت روزے سے نہیں کی، نیز روزہ ایک ایسا خفیہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔
روزے کے پاک عمل کو ایک پاک چیز سے تشبیہ دی گئی ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ مشک پاک ہے، اور یہ بہترین خوشبو ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری خوشبوؤں سے بہترین خوشبو کستوری ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 36/3)
گناہ کے کفارے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہے اور سے معاف کردیتا ہے۔
اگرچہ ہر عمل کی جزا اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، تاہم اکثر طور پر اعمال کی جزا فرشتوں کے سپردکر دیتا ہے لیکن روزے کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی جزا فرشتوں کے حوالے کرنے کے بجائے وہ خود دیتا ہے کیونکہ روزہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے نہیں رکھا جاتا اور نہ اس میں کوئی ریا اور نمودونمائش کا پہلو ہی ہوتا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ روایت اور مروی میں فرق ہے۔
واللہ أعلم۔
سعید بن منصور کی روایت میں یوں ہے کہ فحش نہ بکے نہ کسی سے جھگڑے۔
ابو الشیخ نے ایک ضعیف حدیث میں نکالا کہ روزے دار جب قبروں میں سے اٹھیں گے تو اپنے منہ کی بو سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہوگی۔
ابن علام نے کہا کہ دنیا ہی میں روزہ دار کے منہ کى بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے اور روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ریا و نمود کو دخل نہیں ہوتا۔
آدمی خالص خدا ہی کے ڈر سے اپنی تمام خواہشیں چھوڑ دیتا ہے۔
اس وجہ سے روزہ خاص اس کی عبادت ہے اور اس کا ثواب بہت ہی بڑا ہے بشرطیکہ روزہ حقیقی روزہ ہو۔
(1)
یہ حدیث کئی ایک اعتبار سے روزے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے: ایک تو یہ کہ روزہ ڈھال ہے۔
ایک قلعہ، روایت میں ہے کہ روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔
(جامع الترمذي، الصوم، حدیث: 764)
مسند امام احمد کی روایت میں روزے کو ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے۔
(مسندأحمد: 402/2)
اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ روزہ گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔
جب انسان روزہ دار ہوتا ہے تو شیطان کے وار سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
دوسری وجہ فضیلت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر کہا گیا ہے جبکہ دوسری احادیث میں خون شہید کو مشک کہا گیا ہے، حالانکہ شہید اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ اسلام کا رکن اور فرض عین ہے جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے۔
مذکورہ فرق اسی وجہ سے ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ روزے کے عمل کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ عبادت ہر قسم کی اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔
یہ اس لیے کہ روزہ ایسا عمل ہے جس پر لوگ مطلع نہیں ہو سکتے۔
اس میں ریاکاری کے امکان کم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ جب اس عمل کا ثواب دے گا تو اعداد و شمار کے بغیر بے حد و حساب ثواب عنایت کرے گا۔
(2)
روزہ دار کی جزا خود اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا جبکہ دوسرے اعمال کی جزا فرشتوں کی وساطت سے دی جاتی ہے۔
بہرحال اس حدیث میں کئی ایک پہلوؤں سے روزے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی روزے کی فضیلت کو ثابت کرنا ہے۔
(1)
عبادت کا اظہار مکروہ ہے، اسے ہر ممکن انداز سے مخفی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر اس کے اظہار میں کچھ فائدہ ہو تو اسے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ریا اور شہرت مقصود نہ ہو۔
اس مقام پر روزے کے عمل کو ظاہر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ شاید سب و شتم کرنے والا جاہل مزید بدتمیزی سے باز آ جائے اور شرم کی وجہ سے وہ روزے دار کی طرح بن جائے۔
یہاں ایک اشکال ہے: حدیث میں وضاحت ہے کہ جب روزے دار سے کوئی بدتمیزی کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے دار ہونے کا زبان سے اظہار کر دے لیکن امام بخاری ؒ نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے جو تردد پر دلالت کرتا ہے؟ حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ روزے دار کو زبان سے کہنا چاہیے یا خود کو مخاطب کر کے اپنے دل میں کہہ دے۔
بعض شارحین کا خیال ہے کہ اسے اپنے دل میں کہنا چاہیے جبکہ بعض حضرات کے نزدیک زبان سے کہنا زیادہ بہتر ہے اور اگر دونوں کو جمع کر لے تو بہت ہی اچھا ہے، اس اختلاف کی بنا پر امام بخاری نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے۔
(فتح الباري: 136/4)
اس مسئلے میں تین قول ہیں: ٭ دل میں کہے، زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
٭ زبان سے کہہ دے تاکہ جاہل آدمی بے ہودگی سے باز آ جائے۔
٭ فرض روزے میں زبان سے کہے اور نفل روزے میں دل سے کہے۔
دوسرا قول ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔
(عمدةالقاري: 10/8) (2)
روزہ دار افطاری کے وقت اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ پورا کرنے کی توفیق دی اور روزے کو فاسد کرنے والی اشیاء سے اسے محفوظ رکھا، نیز سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد کھانے پینے سے طبعی طور پر خوشی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس لیے خوش ہو گا کہ اس نے روزہ قبول کر لیا ہے اور اسے اچھا بدلہ دیا ہے۔
(فتح الباري: 152/4)
بلکہ وہ دل میں سوچ لے یا ضرورت اور موقع ومحل کا تقاضا ہو تو زبان سے بھی کہہ دے، میں روزے دار ہوں اور میرے لیے سب وشتم اور لڑائی جھگڑا کرنا جائز ہے۔
‘‘شاتمه: گالی گلوچ پر ابھارے۔
قاتله: لڑائی جھگڑے پر اکسائے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 764]
1؎:
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ روزے میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہو سکتا ہے لیکن روزے کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ((الصَّوْمُ لِيْ وَأَنَا أَجْزِي بِه))
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2363]
(1) فحش گوئی اور اعمال جہالت سے مسلمان کو ہر حال میں بچنا چاہیے مگر روزہ دار کو ان سے پرہیز کی بہت زیادہ تاکید ہے۔
چنانچہ زبانی طور پر اپنے مقابل کو بتا دے کہ میں روزے سے ہوں اور غلط طرز عمل کو مزید بڑھنے بڑھانے سے باز رہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ یہ بات اپنے دل میں کہے اور اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ روزے سے ہے۔
لیکن یہ موقف ظاہر نص کے خلاف ہے۔
(2) اور روزے کی حالت میں اس ہدایت پر عمل کرنے ہی سے روزہ ڈھال ہو سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت ح [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2217]
(2) ”ڈھال ہے۔“ یعنی گناہوں سے اور قیامت کے دن آگ سے ڈھال ہوگا۔ گناہوں سے مضبوط ڈھال بنا رہا تو آگ سے بھی مضبوط ڈھال ہوگا۔ یہاں کمزور ڈھال ثابت ہوا تو آخرت میں بھی کمزور ڈھال ہوگا، لہٰذا روزے کو ہر قسم کی کمزوری سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3823]
فوائد و مسائل: یہ حدیث کتا ب الصیام کے پہلے باب میں گزر چکی ہے۔
دیکھئے حدیث: 1638۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1638]
فوائد ومسائل: یہ بندوں پر اللہ کا خاص فضل ہے۔
کہ بندہ جو اس کی توفیق سے نیکی کرتا ہے۔
اس کا ثواب صرف ایک نیکی کے برابر دینے کی بجائے بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
﴿مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ (الأنعام: 6: 160)
جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوا اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی بیان کردہ یہ مقدار کم از کم ہے۔
ثواب اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔
(2)
ثواب کی کثرت کا دارومدار حسن نیت اخلاص اور اتباع سنت پر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر عظیم الشان تھا۔
کہ ان کا للہ کی راہ میں دیا ہوا آدھ سیر غلہ بعد والوں کے احد پہاڑ برابر سونا خرچ کرنے سے افضل ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 161)
اس لئے ہرشخص کے حالات وکیفیات کے مطابق نیکی کی ثواب سینکڑوں گنا تک پہنچ سکتا ہے۔
(3)
عمل وہی قبول ہوتا ہے۔
جو خالص اللہ کی رضا کےلئے کیا گیا ہو۔
ریا اور دکھاوے کی غرض سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے۔
چونکہ روزے کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔
اور دوسرے ظاہری اعمال مثلا نماز زکواۃ اور حج وغیرہ کی نسبت روزہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ریا کا شائبہ بھی کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کےاجر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
(4)
روزے کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے۔
جب انسان دل کی غلظ خواہشات پورا کرنے سے پرہیز کرے۔
یعنی جس طرح کھانا کھانے سے پرہیز کرتا ہے۔
اسی طرح جھوٹ اور غیبت وغیرہ سے بھی اجتناب کرے۔
(5)
روزہ کھولتے وقت اس بات کی خوشی ہوتی ہے۔
کہ اللہ کے فضل سے ایک نیک کام مکمل کرنے کی توفیق ملی۔
(6)
قیامت کو خوشی اس لئے ہوگی کہ روزے کا ثواب اس کی توقع سے بڑھ کرملے گا۔
اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی۔
(7)
منہ کی بو سے بو مراد ہے۔
جو پیٹ خالی رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
چونکہ یہ اللہ کی اطاعت کا ایک کام کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
اس لئے اللہ کو بہت محبوب ہے۔
(8)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روزے کی حالت میں شام کے وقت مسواک کرنے سے بچنا چاہیے۔
تاکہ اللہ کی پسندیدہ بو ختم نہ ہوجائے۔
لیکن یہ درست نہیں کیونکہ مسواک سے وہ بو ختم ہوتی ہے۔
جو منہ کی صفائی نہ ہونے کیوجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بو دوسری ہے۔
اس کا مسواک کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1691]
فوائد و مسائل: (1)
روزے کے فوائد کماحقہ حاصل کرنے کے لئے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے
(2)
جہل (ناروا حرکت)
سے مراد لڑائی جھگڑے کی بات ہے۔
یعنی روزے دار کو لڑائی میں پہل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص ایسی بات کرے۔
یا ایسی حرکت کرے جس سےروزے دار کو غصہ آجائے تب بھی روزے دار کو جواب میں جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ اپنے روزے کا خیال کرتے ہوئے برداشت اورتحمل سے کام لیتے ہوئے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
یہ کہنا کہ میں روزے سے ہوں اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دل میں اپنے روزے کا خیال کرے تاکہ جھگڑے سے بچنا ممکن ہوسکے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جھگڑنے والے سے کہہ دے کہ میں تمہاری غلط حرکت کا جواب تمہارے انداز میں اس لئے نہیں دے رہا کہ میرا روزہ مجھے اس سے روکتا ہے۔
امید ہے اس سے اس کو شرم آ جائے گی۔
اور وہ روزے دار کے روزے کا احترام کرتے ہوئے جھگڑا ختم کردے گا۔
«. . . 342- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الصيام جنة، فإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل، فإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل: إني صائم، إني صائم.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، پس اگر تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو فحش بات نہ کہے اور نہ جہالت کی بات کہے، اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالیاں دے تو یہ کہہ دے میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 246]
[وأخرجه البخاري 1894، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ روزے کے تقاضے پورے کرنے والے مسلمان، روزے کی حالت میں برائیوں سے اس طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح ڈھال کے ذریعے سے مخالف کی تلوار وغیرہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔
➋ قیامت کے دن روزے جہنم کی آگ سے بچائیں گے۔
➌ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ مجھے کوئی حکم دیں جسے میں (مضبوطی سے) پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ۔» تو روزے رکھ، کیونکہ ان جیسا کوئی (عمل) نہیں ہے۔ [سنن النسائي 4/165 ح2222 وسنده صحيح وصححه ابن حبان: 929 وابن حجر فى فتح الباري 4/104، تحت ح1894]
➍ روزے کی حالت میں ممنوعہ کاموں میں سے بعض کا ارتکاب روزے کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے ثواب کو بھی ملیامیٹ کرسکتا ہے لہٰذا ہر قسم کے ممنوعہ امور سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔
➎ دن کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع جائز نہیں ہے لیکن روزہ افطار کرنے کے بعد رات کو صبح طلوع ہونے سے پہلے تک جائز ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 343]
اس حدیث میں روزے کی حفاظت کا بیان ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد اس کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرنی ہے، اور حفاظت یہ ہے کہ گالی وغیرہ نہیں دینی، اپنے آپ کو ترازو حدیث کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔