حدیث نمبر: 2195
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ , قَالَتْ : فَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ ، وَيَقُولُ : " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " , قَالَ : فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے ، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا : ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے ، اور فرماتے : ” جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا ، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی تراویح واجب اور ضروری نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد لكن قوله متوفى الخ مدرج إنما هو من قول الزهري , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16713)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 29 (924)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761) ، مسند احمد 6/232 (صحیح)»