سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ } باب: آیت کریمہ «كلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» کی تفسیر۔
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، " أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى ، لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا ، وَلَا يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا إِلَى الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 , قَالَ : وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ ، وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً ، فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ ، فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ ، فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا ، وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الْآيَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ " .
´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا ، یہاں تک کہ آیت کریمہ : « وكلوا واشربوا» سے لے کر «الخيط الأسود» ” تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے “ تک نازل ہوئی ، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے ، وہ روزے سے تھے ، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا : کچھ کھانا ہے ؟ ان کی بیوی نے کہا : ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے ، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں ، چنانچہ وہ نکل گئی ، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے ، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا ، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا ، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی ، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی ، تو ان پر غشی طاری ہو گئی ، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وكلوا واشربوا» سے لے کر «الخيط الأسود» ” تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے “ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، (ہوا یہ کہ) وہ مغر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2170]