سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : السُّحُورِ بِالسَّوِيقِ وَالتَّمْرِ باب: ستو اور کھجور سے سحری کھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ : " يَا أَنَسُ ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا " ، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ ، فَقَالَ : " يَا أَنَسُ ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي " ، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَجَاءَ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ " ، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا : ” اے انس ! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کچھ کھلاؤ “ ، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا ، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے انس ! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے “ ، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا ، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے : میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے ، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں “ ، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی ، پھر آپ اٹھے ، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی ، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ” اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ “، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ (سحری) کھائے “، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے (اور) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2169]
(2) حضرت بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر سے چند منٹ پہلے اذان کہا کرتے تھے۔ فجر کی اذان حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے تھے جیسا کہ دیگر احادیث میں صراحت ہے، لہٰذا یہ وہم نہ کیا جائے کہ شاید رسول اللہﷺ نے فجر کی اذان کے بعد سحری کھائی۔ اس حدیث میں دوسری اذان کا ذکر نہیں۔