حدیث نمبر: 2165
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , وَقَالَ : " هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے ، اور فرما رہے تھے : ” آؤ صبح کے مبارک کھانے پر “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصوم16 (2344)، (تحفة الأشراف: 9883) ، مسند احمد 4/126، 127 (صحیح) (سند میں یونس بن سیف مقبول راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح لغیرہ ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2344

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2344 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت «غداء» پر آؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2344]
فوائد ومسائل:
کھانا انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے، مگر شریعت کی اتباع میں سحری کا کھانا مبارک کھانا ہوتا ہے۔
چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناطق وحی ہیں، اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے، اس لیے اگر کسی کی طبیعت میں سحری کے لیے چاہت نہ بھی ہو تو ایک دو لقمے یا کجھور یا کسی مشروب کے چند گھونٹ ضرور لے لینے چاہئیں تاکہ اس برکت سے حصہ مل جائے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2344 سے ماخوذ ہے۔