حدیث نمبر: 2164
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15605) ، مسند احمد 5/367، 370، 371 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سحری کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2164]
اردو حاشہ: تمہیں عطا فرمائی ہے۔ یعنی خاص تمہارے لیے رعایت ہے، ورنہ یہودی اور عیسائی اس نعمت سے محروم ہیں، لہٰذا اسے امتیاز سمجھ کر اختیار کرو، امتیازات چھوڑے نہیں جاتے، اس لیے اسے نہ چھوڑو۔ سحری کھائی جائے تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے روزے سے مشابہت نہ ہو۔ مجبوراً سحری چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ مثلاً بیدار نہ ہو سکے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 2146)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2164 سے ماخوذ ہے۔