حدیث نمبر: 2150
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " , رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2150
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2150]
اردو حاشہ: گو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت موقوف بھی آتی ہے مگر اس سے اس کے مرفوع ہونے میں کوئی نقص نہ آئے گا۔ نبیﷺ کے فرمان کو صحابی خود بھی دہرا سکتے ہیں، یہ کوئی بعید نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2150 سے ماخوذ ہے۔