سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : كَمِ الشَّهْرُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ حَدَّثَهُ . ح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ , قَالَ اللَّهُ لَهُمَا : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 , وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ : فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ ، حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكَانَ قَالَ : مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ ، حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں :` مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ” اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں “ ( التحریم : ۴ ) میں کیا ہے ، پھر پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا ، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی ، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے ، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» " اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں " (التحریم: ۴) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
(2) جب محسوس ہو کہ آدمی قسم توڑ رہا ہے تو اسے یاد کرایا جا سکتا ہے۔
(1)
خاوند کو عورتوں کی نافرمانی اور ان کی منہ زوری سے روکنے کے لیے تین اقدام کرنے کی اجازت دی گئی ہے: ٭ وعظ و نصیحت ٭ اپنے بستروں سے انھیں علیحدہ کرنا ٭ انھیں ہلکا پھلکا زد و کوب کرنا۔
ان سے علیحدگی اختیار کرنے کی دو صورتیں ممکن ہیں: ٭گھر میں رہتے ہوئے ان سے قطع تعلقی کر لی جائے۔
٭گھر کے علاوہ دوسری جگہ میں خلوت نشینی اختیار کی جائے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت کیا ہے کہ گھر کے علاوہ دوسری جگہ میں بھی علیحدگی ہو سکتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ موقع محل اور عورت کے مزاج کے مطابق کسی بھی جگہ کو گوشہ نشینی کے لیے اختیار کیا جاسکتا ہے۔
بعض دفعہ گھر میں علیحدگی کار گر ثابت ہوتی ہے جبکہ کسی موقع پر گھر کے علاوہ دوسری جگہ پر علیحدگی اختیار کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 374/9)
اس تحقیق کے لیے آئے اور ایک دن دربان رباح نامی کی اجازت لینے پر اعتماد کیا۔
اس سے خبر واحد کا حجت کا ہونا ثابت ہوا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خبر سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔
تو وہ بہت فکر مند ہوئے۔
اس امر کی تحقیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو وہاں سیڑھیوں پر ایک دربان تعینات تھا۔
انھوں نے اس سے کہا: میرے لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندرآنے کی اجازت طلب کرو۔
چنانچہ وہ اکیلا تھا اور اس کے اجازت لینے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعتماد کیا اور اس کی اطلاع کو قابل یقین خیال کیا۔
اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خبر واحد کی حجیت کو ثابت کیا ہے۔
بہر حال خبر واحد حجت ہے خواہ اس کا تعلق ایمانیات سے ہویا اعمال سے اس قسم کی تفریق خود ساختہ اور بناوٹی ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ . . .»
". . . ہم دونوں باری باری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا، ایک دن میں آتا۔ جس دن میں آتا اس دن کی وحی کی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ) دیگر باتوں کی اس کو خبر دے دیتا تھا اور جب وہ آتا تھا تو وہ بھی اسی طرح کرتا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 89]
اس انصاری کا نام عتبان بن مالک تھا۔ اس روایت سے ثابت ہوا کہ خبر واحد پر اعتماد کرنا درست ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھبرا کر اس لیے پوچھا کہ ان دنوں مدینہ پر غسان کے بادشاہ کے حملہ کی افواہ گرم تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید غسان کا بادشاہ آ گیا ہے۔ اسی لیے آپ گھبرا کر باہر نکلے پھر انصاری کی خبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اس نے ایسی بے اصل بات کیوں کہی۔ اسی لیے بے ساختہ آپ کی زبان پر نعرہ تکبیر آ گیا۔ باری اس لیے مقرر کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تاجر پیشہ تھے اور وہ انصاری بھائی بھی کاروباری تھے۔ اس لیے تاکہ اپنا کام بھی جاری رہے اور علوم نبوی سے بھی محرومی نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ طلب معاش کے لیے بھی اہتمام ضروری ہے۔ اس حدیث کی باقی شرح کتاب النکاح میں آئے گی۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ انسان کو دینی اور دنیوی ضروریات کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی مصروفیات میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اسے حصول علم کے لیے وقت نہیں ملتا۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ چند ساتھی مل کر ایک کمیٹی بنا لیں اور تقسیم کار کر لیں، ایک دن ایک شخص عالم دین کی خدمت میں حاضری دے اور دینی باتیں سیکھ کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو سنائے۔
دوسرے دن دوسرا حاضری دے اور پہلا کاروباری مصروفیات انجام دے۔
اس طرح بآسانی یہ لوگ علم دین حاصل کرسکیں گے۔
مذکورہ حدیث میں اس طریقے کا ذکر ہے۔
آج کل تو دینی علوم پر مشتمل بہترین کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان کتابوں کو مہیا کرنے میں عالمی ادارہ دارالسلام سرفہرست ہے۔
اس کے علاوہ خطباء واعظین گاؤں گاؤں قریہ قریہ جاکر اہل دیہہ کو تعلیم دیتے ہیں، لہٰذا اس دور میں جہالت کاکوئی عذر باقی نہیں رہنا چاہیے۔
2۔
اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت اور مراسیل صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین پر عمل کرنے کا پتہ چلتا ہے، نیز طالب علم کے لیے ہدایت ہے کہ وہ اپنے معاشی حالات پر بھی نظر رکھے اور جس دن مجلس علم میں حاضر نہ ہوسکے اس دن کی دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کوتاہی کو اپنے پاس نہ آنے دے۔
(فتح الباري 245/1)
3۔
اہل مکہ کی عورتیں اپنے خاوندوں سے مرعوب رہتی تھیں جبکہ مدینے میں اس کے برعکس عورتوں کا غلبہ تھا۔
ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ متفکر بیٹھے تھے کہ ان کی بیوی نے اس کی وجہ پوچھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اس لیے پریشان ہوں کہ تم ہر کام میں دخل دیتی ہو۔
بیوی نے جواب دیا: آپ خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہیں۔
اس میں میرا کیا قصور ہے، ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔
اس سے آپ کو تکلیف پہنچی، فوراً تیاری کر کےحضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سمجھانے کے لیے تشریف لے گئے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4913)
اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بیٹیوں کو خاوند کی اطاعت اور فرمانبرداری کی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔
دیگر تفصیلات کتاب النکاح میں ذکر کی جائیں گی۔
(1)
یَنْكُتُوْنَ بِالْحِصيٰ: زمین پر فکر مند اور غمزدہ ہو کر کنکریوں کے ساتھ نکتے لگارہے تھے۔
(2)
عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ: عَيْبَةٌ: اس برتن یا ہتھیلی کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنے بہترین کپڑے اور قیمتی اشیاء محفوظ کرتا ہے، مراد اپنی اصل دلچسپی کی چیز ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ کو وعظ و نصیحت کرو۔
(3)
لَوْلَا اَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُوْلُ اللهِ: میرے لحاظ اور رعایت کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق نہیں دے رہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خاطر اور ان کے روزہ دار اور تہجد گزار ہونے کی بنا پر، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کورجوع کا حکم ملا تھا۔
(4)
مَشْرُبَةٍ: مشروب خانہ، مَشْرُبَۃ: بالاخانہ۔
(5)
أُسْكُفَّةٌ: چوکھٹ، دہلیز۔
(6)
قَرَظٌ: کیکرکے پتے، جن سے کچے چمڑے رنگے جاتے ہیں۔
أَفِیْقٌ: وہ چمڑا جو ابھی پوری طرح رنگا نہ گیا ہو۔
(7)
وَاِنْ تَظَاهَرَ اعَلَيْهِ: اے عائشہ و حفصہ! اگر تم دونوں ایک ایسے کام پر ایکا اور اتفاق کر لو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکلیف دہ ہے اور اس کا راز ظاہر کر دو، تو تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ، جبریل، مومن اور فرشتے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمعاون و مددگار ہیں۔
(8)
تَحَسَّرالْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور سے غصہ کے آثار مٹ گئے۔
(9)
کَشَرَ: مسکراہٹ سے دانت ظاہر ہو گئے۔
(10)
أَتَشَبَّثُ بِاْلجِذْعِ: (میں گرنے کے خوف سے)
تنے کو پکڑ کر اتر رہا تھا۔
(11)
وَمَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی اعتماد و وثوق سے بلا خوف و خطر، بغیر سہارا لیے (ہاتھ لگائے)
اتر رہے تھے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو تخییر دینے کا واقعہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے پیش آیا ہے، حالانکہ واقعہ تخییر کے وقت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما مدینہ منورہ میں موجود تھے، اور وہ اپنے والدین کے ساتھ فتح مکہ 8 ہجری کے بعد مدینہ منورہ آئے ہیں اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ چکی تھیں اور پردہ کے احکام انہیں کی شادی کے موقع پر ان کے ولیمہ میں 4 ہجری یا 5 ہجری میں نازل ہو چکے تھے۔
اس لیے وا قعہ تخییر کو پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے قرار دینا محض راوی کا وہم ہے جو اسے اس لیے پیدا ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا حالانکہ سوال و جواب پس پردہ ہوئے تھے نیز اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے، کہ آیت: ﴿وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ)
جب امن یا جنگ کی کوئی بات ان کے سامنے آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں جبکہ مشہور یہ ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول جنگی معاملات کی تشہیر جو منافق غلط طریقہ سے مسلمانوں میں بد دلی پھیلانے کے لیے کرتے تھے، کہ سلسلہ میں ہوا ہے، تو یہ دونوں قسم کے واقعات حالت امن میں غلط طور پر طلاق دینے کی تشہیر اور حالت جنگ میں جھوٹی جنگی خبروں کی تشہیر کے سلسلہ میں نازل ہوئی یا دونوں اس کا مصداق ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جس واقعہ پر کوئی آیت چسپاں ہوتی یا اس پر صادق آتی اگرچہ نزول کے بعد یا پہلے پیش آ چکا ہوتا تو کہہ دیتے (نُزِلَت فِي كَذا)
یہ واقعہ بھی اس کا مصداق ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا: اللہ کے رسول! " السلام عليكم " کیا عمر اندر آ سکتا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5201]
یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ نے پہلی اور دوسری بار اجازت طلب کی تو نہ ملی پھر طلب کی تو مل گئی۔
اس وقفے میں آپ بار بار السلام علیکم کہتے رہے ہیں۔
ابویعفور کہتے ہیں کہ ہم ابوالضحیٰ کے پاس تھے اور ہماری بحث مہینہ کے بارے میں چھڑ گئی، بعض نے کہا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا: انتیس (۲۹) دن کا۔ ابوالضحیٰ نے کہا: (سنو) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے حدیث بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح ہم سب کی ایسی آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رو رہی تھیں اور ان سبھی کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے، میں مسجد میں پہنچا تو مسجد (کھچا کھچ)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3485]
(2) "رورہی تھیں" انہیں یہ خیال ہوگیا تھا کہ شاید ایسی قسم کھانے سے طلاق پڑجاتی ہے۔ یا ممکن ہے آپ کی ناراضی اور جدائی کی بنا پر رورہی ہوں۔
(3) "کسی نے جواب نہ دیا" یعنی اندر آنے کی اجازت نہ دی۔ سلام کا جواب آہستہ دے لیا ہو گا۔
(4) "انتیس دن" کیونکہ مہینہ انتیس کا بھی ہوسکتا ہے‘ تیس کا بھی۔ شریعت نے انتیس دن کو پورا مہینہ قراردیا ہے‘ لہٰذا اگر قسم ایک ماہ کی ہو تو انتیس دن بعد وہ قسم پوری ہوجائے گی‘ چاہے کسی بھی چیز کے بارے میں ہو۔
(5) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرمﷺ کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور ہر چھوٹی بڑی پریشانی میں اپنا ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے مسابقت کرتے تھے۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهم وَرَضُوْعَنْه۔
(6) ضرورت کے تحت ایک سے زائد منزلہ عمارت بنائی جاسکتی ہے لیکن اس کی بناوٹ ایسی ہو کہ پڑوسیوں کے گھروں میں نظر نہ پڑے تاکہ انہیں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
(7) قسم کھانے والے کے بارے میں اگر یہ شبہ ہو کہ یہ بھول گیا ہے تو اسے یاد کرا دینا چاہیے جیسا کہ آئندہ حدیث میں آرہا ہے۔