حدیث نمبر: 2110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي ، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عرفجہ کہتے ہیں :` میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے ، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے ، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے ، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! نیکی میں لگا رہ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! باز آ جا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔`
عرفجہ کہتے ہیں: میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک (صاحب وہاں) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ (انہوں) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2110]
اردو حاشہ: آگے آ یعنی نیکی کر کیونکہ یہ نیکی کا موسم ہے اور اس میں بکثرت نیکیاں کمائی جا سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2110 سے ماخوذ ہے۔