سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَعْمَرٍ فِيهِ باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي ، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ " .
´عرفجہ کہتے ہیں :` میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے ، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے ، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے ، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! نیکی میں لگا رہ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! باز آ جا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عرفجہ کہتے ہیں: میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک (صاحب وہاں) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ (انہوں) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2110]