سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : الْفَضْلِ وَالْجُودِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ باب: ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ ، كَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے ، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ ( روایت ) غلط ہے ، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، (اور) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (روایت) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے (جو اوپر گزری) راوی نے اس حدیث میں ایک (دوسری) حدیث داخل کر دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2098]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، (اور) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (روایت) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے (جو اوپر گزری) راوی نے اس حدیث میں ایک (دوسری) حدیث داخل کر دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2098]
اردو حاشہ:: (1) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ اس حدیث میں لعنت کا ذکر غلطی ہے بلکہ وہ ایک اور روایت ہے۔ راوی نے غلطی سے اس حدیث میں بھی لعنت والے الفاظ ذکر کر دیئے، یونس بن یزید کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں اور یہی درست ہے۔ (2)’’قابل ذکر ہو‘‘ مطلب یہ ہے کہ لعنت کرنا نبیﷺ کی عادت نہ تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ آپ نے شخصی طور پر کبھی کسی پر لعنت کی ہی نہیں۔ بعض انتہائی ناقابل برداشت لوگوں پر ان کی بری صفت ذکر کے لعنت کی ہے، مثلاً: [لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ] (صحیح البخاری، الحدود، حدیث: 6783، وصحیح مسلم، الحدود، حدیث: 1687)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2098 سے ماخوذ ہے۔