سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي ، قَالَ : فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
´حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا ، چنانچہ جب موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر پیس ڈالنا ، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے ، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا : اے میرے رب ! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]