سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ , فَقَالَ : " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، قَالَ : إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ " ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ : وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ " ، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ .
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا : ” کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ؟ “ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ” اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں “ ، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا : ” یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا “ ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا : «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل : ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے (اور) فرمایا: ” کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟ “ (پھر) آپ نے فرمایا: ” اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں “، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں) کہا تھا: ” یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2078]