حدیث نمبر: 2061
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا , فَقَالَ : " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے ، تو ایک آواز سنی ، آپ نے فرمایا : ” یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 87 (1375)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2869)، (تحفة الأشراف: 3454) ، مسند احمد 5/417، 419 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قبر کے عذاب کا بیان۔`
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا: یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2061]
اردو حاشہ: عذاب قبر سب کو ہوتا ہے۔ کسی کو سوال و جواب کی حد تک، کسی کو اس سے بڑھ کر بھینچنے کی حد تک، کسی کو کچھ دیر کے لیے، کسی کو ہمیشہ کے لیے (قیامت تک)۔ غالباً وہاں قریب ہی یہودیوں کا قبرستان تھا۔ یہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2061 سے ماخوذ ہے۔