حدیث نمبر: 2058
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ : " نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں` آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا “ ( ابراہیم : ۲۷ ) ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2058
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، (تحفة الأشراف: 1754) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2059 | صحيح مسلم: 2871 | سنن ابن ماجه: 4269

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قبر کے عذاب کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا (ابراہیم: ۲۷)۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2058]
اردو حاشہ: عذاب قبر سے دو مختلف معانی مراد ہیں: (1) قبر میں سوال و جواب، اسے فتنہ قبر بھی کہا جاتا ہے۔
(2) گناہوں کی وجہ سے قبر میں پہنچنے والی تکالیف، کسی حدیث میں پہلے معنیٰ مراد ہوتے ہیں کسی میں دوسرے۔ مندرجہ بالا آیت میں قبر کا سوال و جواب مراد ہے۔ اسی طرح شہید، طاعون، ہیضہ اور حادثاتی موت وغیرہ سے مرنے والوں سے عذاب قبر کی نفی سے مراد بھی سوال و جواب کی نفی ہے جبکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ والی روایت میں دوسرے معنیٰ مراد ہیں اور یہ بھینچے جانے کی حد تک تو سب کو ہوتا ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے۔) اس سے زائد اپنے اپنے گناہوں کے مطابق حتیٰ کہ بعض کو قیامت تک ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2058 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2871 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ"جو لوگ ایمان لائے انہیں اللہ قول ثابت (کلمہ شہادت) سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔" قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7220]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: قرآن و سنت کی نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عذاب قبر کا تعلق بدن اور روح دونوں سے ہے، لیکن بقول حاٖفظ ابن حجر، عذاب کا تعلق، روح اور جسد دونوں سے ہے، لیکن اصلی اور حقیقی تعلق روح سے ہے اور تبعا جسد بھی اس کے ساتھ دکھ، درد اور لذت و نعمت سے متاثر ہوتا ہے، لیکن اہل دنیا کو اس کا پتہ نہیں چلتا، اگر قبر کھود کر مردہ کو دیکھ بھی لیا جائے تو پھر ابھی احساس نہیں ہوتا، (تکملہ ج 6 ص 241)
جس طرح خواب میں لذت یا تکلیف براہ راست دراصل روح کے لیے ہوتی ہے اور جسم تبعا اس سے متاثر ہوتا ہے، اس طرح خواب میں جو لذت یا تکلیف خواب دیکھنے والے کو ہوتی ہے، اس کے ساتھ لیٹنے والا، اس کو محسوس نہیں کرتا، جمہور اہل سنت کا موقف یہی ہے، مزید اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)
خوراج اور بعض معتزلہ کے نزدیک، قبر میں عذاب نہیں ہوتا ہے، یہ قول صریح نصوص کے خلاف ہے۔
(2)
قبر کا عذاب صرف کافروں کو ہوتا ہے، لیکن یہ قول جو بعض معتزلہ کا ہے، احادیث کے خلاف ہے۔
(3)
سوال و عذاب کا تعلق صرف روح سے ہے، یہ ابن حزم کا نظریہ ہے، جا صحیح نہیں ہے، کیونکہ فرشتے سوال بٹھا کر کرتے ہیں اور اس کاتعلق جسد سے ہے۔
(4)
عذاب صرف بدن کو ہوتا ہے، ابن جریر اور بعض علماء کا یہی نظریہ ہے، لیکن جب اطاعت و معصیت بدن اور روح دونوں نے مل کر کی ہے تو عذاب و ثواب صرف ایک کو کیوں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2871 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4269 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس (مردے) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی (سورة ابراهيم: 72) سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4269]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پکی بات سے مراد کلمہ توحید ہے۔
مومن اللہ کی توفیق سے دنیا کی زندگی میں اس پر قائم رہتا ہے جس کے نتیجے میں قبر میں وہ سوال جواب کے مرحلے میں ثابت قدم رہتا ہے۔
منافق دنیا کی زندگی میں اس پر قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔
اور وہ شکوک وشبہات میں مبتلا رہتا ہے۔
لہٰذا آخرت کی اس پہلی منزل (قبر)
میں بھی وہ جواب نہیں دے سکتا۔

(2)
قبر میں عذاب نفاق اعتقادی سے کم تر گناہوں پر بھی ہوسکتا ہے۔
جیسا کہ پیشاب سے جسم اور لباس کوبچانے کی کوشش نہ کرنا ایک کی بات دوسرے کو بتا کرلڑائی کرادینا وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4269 سے ماخوذ ہے۔