حدیث نمبر: 2057
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا ، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے ، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا ، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے مراد سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2057
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7926) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 136

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قبر کے دبانے اور دبوچنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) اس سے جاتا رہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2057]
اردو حاشہ: (1) جھوم گیا یعنی ان کے استقبال کی خوشی میں۔ یہ معنیٰ ان کی عظمت و شان پر دلالت کرتے ہیں۔
(2) بھینچا گیا کیونکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔) اس بھینچنے سے وہ اس کمی کے اثر سے نجات پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ مومن کو صرف ایک دفعہ بھینچا جاتا ہے، پھر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر کچھ عجب نہیں کہ کافر پر یہ عذاب بار بار ہوتا ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر ہر ایک کو بھینچتی ہے، اگر اس سے کوئی محفوظ رہتا تو یقیناً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 327/40، رقم: 24283، والصحیحة: 268/4، رقم: 1695)
(3) اس کی توجیہ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ قبر انسان کے لیے ماں کی طرح ہے کیونکہ وہ اسی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ عرصۂ دراز کے بعد ملنے والے بیٹے کو ماں خوب زور سے اپنے جسم کے ساتھ بھینچتی ہے، چاہے اسے اس سے تکلیف ہی ہو۔ قبر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، البتہ نیک شخص کو وہ محبت سے بھینچتی ہے اور برے شخص کو غصے اور ناراضی سے۔ نیک کے لیے اس میں سرور ہے اور برے کے لیے عذاب۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2057 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 136 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ سعد بن معاذ کے لیے عذاب قبر کا تنگ اور کشادہ ہونا`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ) ایسے شخص ہیں جب ان کی روح آسمان پر پہنچی تو خوشی کی وجہ سے عرش الہٰی جھومنے لگا اور آسمان کے دروازے کھول دئے گئے اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں آئے لیکن اس کے باوجود قبر تنگ کر دی گئی پھر یہ تنگی دور کر دی گئی اور قبر کشادہ ہو گئى۔ اس حدیث کو نسائى نے روایت کیا ہے۔ (یہ قبر کا چمٹنا محبت کے طور پر تھا، لیکن چونکہ تکلیف دہ صورت میں اس کا اظہار ہوا، اس لیے اس باب میں ذکر کر دیا گیا ہے۔) واللہ اعلم . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 136]
تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
سنن النسائی کے علاوہ یہ روایت دلائل النبوہ للبیھقی [28/4] میں بھی مذکور ہے۔

فقہ الحدیث:
➊ ہر مرنے والے کے لئے قبر کا جھٹکا برحق ہے۔
➋ حافظ ذہبی فرماتے ہیں: «هٰذا الضمة ليست من عذاب القبر فى شي بل هو أمر يجده المؤمن كما يجد ألم فقد ولده وحميمه فى الدنيا وكما يجد ألم مرضه وألم خروج روحه . . .»
یہ جھٹکا (مومن کے لئے) عذاب قبر میں سے نہیں بلکہ یہ ایسے ہی ہے جس طرح مومن کو اپنی اولاد یا محبوب چیز کے گم ہونے کا دکھ ہوتا ہے اور جس طرح بیماری کی تکلیف اور روح نکلنے کا درد ہوتا ہے۔۔۔ [سیر اعلام النبلاء 1؍290]
◄ پھر حافظ ذہبی فرماتے ہیں: ہم جانتے ہیں کہ سعد (رضی اللہ عنہ) جنتی ہیں اور آپ عالی شان شہداء میں سے ہیں۔ [ایضاً ص 290]
➌ اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زبردست فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش ان کی شہادت پر پیار و محبت سے متحرک ہو کر ہل گیا تھا، اور ستر ہزار فرشتوں نے نماز جنازہ میں حاضری دی۔ «سبحان الله»
➍ آسمان کے کئی دروازے ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے۔
➎ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیشاب کے قطروں سے بچنے میں احتیاط نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت مجہول راوی اور منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
اس سلسلے کی دوسری ضعیف اور مردود روایتوں کے لئے دیکھئے: [مرعاة المفاتيح ج1 ص232]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 136 سے ماخوذ ہے۔