حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ ، قَالَ : " كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَة " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے ؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں ، سوائے شہید کے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15569) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شہید کا بیان۔`
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2055]
اردو حاشہ: (1) گویا جہاد اور شہادت کا ثواب اس قدر زیادہ ہے کہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ جب گناہ ہی نہ رہے تو امتحان کا ہے کا؟ شہید کا تلواروں کے نیچے قائم رہنا بلکہ بے جگری سے لڑنا، جنگ سے نہ بھاگنا، جان کی پروا تک نہ کرنا حتیٰ کہ جان قربان کر دینا اس کے ایمان کی واضح دلیل ہے۔ اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی؟ لہٰذا سوال و جواب کی ضرورت نہ رہی۔
(2) مذکورہ حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ صدیقین سے بھی سوال و جواب نہیں ہوگا کیونکہ ان کا مرتبہ شہداء سے بلند ہے۔ انبیاء علیہم السلام تو ذاتی طور پر اس سے مستثنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2055 سے ماخوذ ہے۔