سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : هَذِهِ فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا , ثُمَّ قَالَ : " لَا يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ ، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ " .
´یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ، وہ دوپہر میں مری تھی ، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے ، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی ، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ، پھر فرمایا : ” جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو ، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ” یہ کیا ہے؟ “ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: ” تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ “، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہﷺ اپنے تمام صحابہ کی خبر گیری فرماتے تھے۔
اگرچہ کوئی بظاہر معمولی حیثیت کا حامل ہو۔
لیڈر اور سربراہ کا اپنے کارکنوں سے اس طرح کا تعلق ہونا چاہیے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نے رسول اللہﷺ کے آرام کا خیال کیا اور تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔
چھوٹوں کو بزرگوں کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے۔
(3)
قبر پر جنازہ پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو دفن سے پہلے میت کا جنازہ پڑھنے کا ہے۔