مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2023
أخبرنا العباس بن عبد العظيم عن سعيد بن عامر عن شعبة عن بن أبي نجيح عن عطاء عن جابر قال : دفن مع أبي رجل في القبر فلم يطب قلبي حتى أخرجته ودفنته على حدة ‏.‏
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا ، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا ، اور انہیں علاحدہ دفن کیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قبر میں رکھ دیئے جانے کے بعد مردے کو نکالنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا، اور انہیں علاحدہ دفن کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2023]
اردو حاشہ: یہ دفنانے سے چھ ماہ بعد کی بات ہے، اور ان کی میت بالکل اسی طرح تھی جس طرح رکھی گئی تھی۔ رضی اللہ عنہ و أرضاہ۔ ثابت ہوا کہ اشد ضرورت ہو تو قبر کشائی کی جا سکتی ہے ورنہ اس سے بچنا بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2023 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔