مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2015
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، قال : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، قال : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا ، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے ( اور ) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے : ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، اور ( تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 561 | سنن نسائي: 566 | صحيح مسلم: 831 | سنن ترمذي: 1030 | سنن ابي داود: 3192 | سنن ابن ماجه: 1519

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جن اوقات میں مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2015]
اردو حاشہ: (1) حدیث کے ظاہر الفاظ سے ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور میت کو دفن کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ بعض علماء نے اگرچہ اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا منع ہے، دفن کیا جا سکتا ہے لیکن یہ تاویل بعید ہے، اس لیے بات وہی صحیح ہے جو حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتی ہے۔ اگر کوئی مجبوری ہو تو پھر ان اوقات میں دفنانے کی گنجائش ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں آ رہا ہے۔
(2) اس روایت سے متعلقہ دوسرے مباحث حدیث نمبر 561 اور 1896 میں گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2015 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 561 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز کے ممنوع اوقات کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کرتے تھے: ایک تو جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو جائے یہاں تک کہ ڈوب جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 561]
561۔ اردو حاشیہ: ➊امام احمد رحمہ اللہ نے ظاہر الفاظ کی بنا پر کہا ہے کہ ان تین اوقات میں میت کو دفن کرنا منع ہے، جب کہ دیگر اہل علم نے اس سے جنازہ مراد لیا ہے کیونکہ نماز سے مناسبت نماز جنازہ کی ہو سکتی ہے نہ کہ دفن کرنے کی، مگر «نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا» کے الفاظ سے دفن کے بجائے نمازجنازہ مراد لینا بعید معلوم ہوتا ہے۔
➋سورج کا سر پر کھڑا ہونا عرفی لحاظ سے ہے ورنہ حقیقت میں سورج نہیں رکتا، بڑی تیزی سے حرکت کرتا رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 561 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 566 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 566]
566۔ اردو حاشیہ: مجموعی طور پر پانچ وقت، نماز کے لیے مکروہ ہیں: (1)طلوع، (2)استوا، (3)غروب، (4)بعد ازصبح، (5)بعد از عصر جبکہ سورج زردی مائل ہو چکا ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے فوائد حدیث: 560۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 831 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین اوقات ہیں جن میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے روکتے تھے اور اس سے بھی کہ ہم ان اوقات میں اپنے مردوں کو قبر میں داخل کریں جب سورج روشن ہو کر طلوع ہو رہا ہو حتی تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا ٹھہر جاتا ہے یعنی زوال کے وقت حتیٰ کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج غروب کے لئے جھکتا ہے حتی تک کہ وہ مکمل غروب ہو جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1929]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: طلوع شمس غروب اور زوال شمس ان تین اوقات میں جس طرح نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اس طرح میت کو دفن کرنا بھی درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 831 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1030 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین ساعتیں ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے یا اپنے مردوں کو دفنانے سے منع فرماتے تھے: جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، اور جس وقت ٹھیک دوپہر ہو رہی ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1030]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
امام ترمذی نے بھی اسے اسی معنی پرمحمول کیا ہے جیساکہ ’’ترجمۃ الباب‘‘ سے واضح ہے، اس کے برخلاف امام ابوداؤدنے اسے دفن حقیقی ہی پرمحمول کیا اورانہوں نے ’’با ب الدفن عند طلوع الشمش وعند غروبها‘‘ کے تحت اس کو ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1030 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1519 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1519]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مکروہ اوقات میں جس طرح عام نماز پڑھنا مکروہ ہے اسی طرح نماز جنازہ بھی مکروہ ہے۔

(2)
ان اوقات میں میت کودفن کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
سوائے اس کے کہ کوئی خاص مجبوری ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1519 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔