سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : اللَّحْدِ وَالشَّقِّ باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2011
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بغلی قبر ہم ( مسلمانوں ) کے لیے ہے ، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد لي» ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا «اللحدلنا» کا مطلب «اللحد اختیارنا» ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
اردو حاشہ: (1) یہ روایت اگرچہ اس سند سے ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی وجہ سے بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے اور یہی بات درست ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جامع ترمذی میں ان شواہد کی تصریح فرمائی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، حدیث: 1045)
(2) ”دوسروں کے لیے“ مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور ”شق اہل کتاب کے لیے ہے۔“ (مسسند أحمد: 363/4) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقاً لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1557) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: 2009،2010)
(2) ”دوسروں کے لیے“ مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور ”شق اہل کتاب کے لیے ہے۔“ (مسسند أحمد: 363/4) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقاً لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1557) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: 2009،2010)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2011 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1045 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1045]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1045]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب ہے «اللحد لِيْ» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب «الَّلحْدُ اِخْتِيَارُنَا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب ہے «اللحد لِيْ» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب «الَّلحْدُ اِخْتِيَارُنَا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1045 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3208 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قبر میں لحد بنانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
فوائد ومسائل:
1۔
قبر کا بڑا گڑھا کھود کر اس کے قبلہ رخ پہلو میں اندر کی طرف ایک گڑھا بنانا لحد کہلاتا ہے۔
اور اگرسیدھا نیچے کی سطح میں بنایا جائے تو اسے شق کہتے ہیں۔
2۔
زمین سخت ہو تو لحد بنانا مستحب ہے ورنہ شق بھی جائز ہے۔
1۔
قبر کا بڑا گڑھا کھود کر اس کے قبلہ رخ پہلو میں اندر کی طرف ایک گڑھا بنانا لحد کہلاتا ہے۔
اور اگرسیدھا نیچے کی سطح میں بنایا جائے تو اسے شق کہتے ہیں۔
2۔
زمین سخت ہو تو لحد بنانا مستحب ہے ورنہ شق بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3208 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1554 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ لحد بنانا مستحب ہے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے اتفاق سے رسول اللہ ﷺ کے لئے لحد ہی کھو دی گئی تھی۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، بشرح النووی، کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت: 49/48/7، حدیث: 966)
لہٰذا جہاں لحد (بغلی قبر بن سکتی ہو وہاں لحد بنانا مستحب اورافضل ہے۔
البتہ شق (صندوقی قبر)
بنانا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
لحد یعنی بغلی قبر سے مراد یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے پھر اس میں ایک طرف میت کے لئے جگہ بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے۔
اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کےلئے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھوداجائے۔
(3)
دونوں طرح قبر بنانا جائز ہے۔
کیونکہ رسول اللہﷺ کے زمانوں میں دونوں طریقوں پر عمل ہوتا تھا۔
جیسے کہ آئندہ حدیث سے ظاہر ہے۔
(4)
شق (صندوقی قبر)
دوسروں کے لئے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں میں زیادہ شق (صندوقی قبر)
کا رواج ہے۔
اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر)
بناتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ لحد بنانا مستحب ہے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے اتفاق سے رسول اللہ ﷺ کے لئے لحد ہی کھو دی گئی تھی۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، بشرح النووی، کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت: 49/48/7، حدیث: 966)
لہٰذا جہاں لحد (بغلی قبر بن سکتی ہو وہاں لحد بنانا مستحب اورافضل ہے۔
البتہ شق (صندوقی قبر)
بنانا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
لحد یعنی بغلی قبر سے مراد یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے پھر اس میں ایک طرف میت کے لئے جگہ بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے۔
اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کےلئے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھوداجائے۔
(3)
دونوں طرح قبر بنانا جائز ہے۔
کیونکہ رسول اللہﷺ کے زمانوں میں دونوں طریقوں پر عمل ہوتا تھا۔
جیسے کہ آئندہ حدیث سے ظاہر ہے۔
(4)
شق (صندوقی قبر)
دوسروں کے لئے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں میں زیادہ شق (صندوقی قبر)
کا رواج ہے۔
اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر)
بناتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1554 سے ماخوذ ہے۔