سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : اللَّحْدِ وَالشَّقِّ باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2010
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ سَعْدًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قال : " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ` سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا : میرے لیے بغلی قبر کھدوانا ، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔`
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2010]
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2010]
اردو حاشہ: ’’اینٹیں لگا دینا‘‘ یعنی لحد کا منہ بند کرنے کے لیے۔ اور یہ سستا طریقہ ہے جبکہ شق کو ڈھانپنا مہنگا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2010 سے ماخوذ ہے۔