حدیث نمبر: 2009
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قال : " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میرے لیے بغلی قبر کھودنا ، اور ( اینٹیں ) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، صحیح مسلم/الجنائز 29 (966)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1556)، (تحفة الأشراف: 3926) ، مسند احمد 1/173 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔`
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور (اینٹیں) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2009]
اردو حاشہ: لحد بغلی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبلے کی دیوار میں بنائی جاتی ہے۔ اور شق سیدھی قبر جس میں میت کو رکھنے کی جگہ قبر کے درمیان میں کھودی جاتی ہے۔ دونوں طریقے جائز ہیں مگر لحد بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3208) تفصیل متعلقہ حدیث میں آئے گی۔ إن شاء اللہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2009 سے ماخوذ ہے۔