مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1994
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ فَيَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں میں سے جو بھی اس طرح مرتا ہو کہ لوگوں کی ایک ایسی جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھتی ہو ، جو سو تک پہنچ جاتی ہو ، تو وہ شفاعت کرتے ہیں ، تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1029

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1029 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز جنازہ اور میت کے لیے شفاعت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان مر جائے اور مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی تعداد سو کو پہنچتی ہو اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کے لیے شفاعت کرے تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۱؎۔ علی بن حجر نے اپنی حدیث میں کہا: «مائة فما فوقها» سویا اس سے زائد لوگ۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1029]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے صلاۃِ جنازہ میں کثرت تعدادکی فضیلت ثابت ہوتی ہے، مسلم کی ایک روایت میں چالیس مسلمان مردوں کا ذکر ہے، اوربعض روایتوں میں تین صفوں کا ذکرہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ یہ احادیث مختلف موقعوں پر سائلین کے سوالات کے جواب میں بیان کی گئیں ہیں، اوریہ بھی ممکن ہے کہ پہلے آپ کو سوآدمیوں کی شفاعت قبول کئے جانے کی خبردی گئی ہوپھرچالیس کی پھرتین صفوں کی گووہ چالیس سے بھی کم ہوں، یہ اللہ کی اپنے بندوں پر نوازش وانعام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1029 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔