سنن نسائي
ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه— ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
بَابُ : الَّذِي يَحْتَلِمُ وَلاَ يَرَى الْمَاءَ باب: اس شخص کا بیان جو خواب دیکھے اور منی نہ دیکھے۔
حدیث نمبر: 199
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سُعَادٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پانی سے ہے “ ۱؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے پانی سے مراد ماء مطہر ہے اور دوسرے پانی سے مراد منی ہے، یہ حدیث عرفاً حصر کا فائدہ دے رہی ہے یعنی مجرد دخول سے جب تک کہ انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا، لیکن یہ حدیث ابی بن کعب کے قول «كان الماء من الماء في أوّل الإسلام ثم ترك بعده وأمر بالغسل إذا مس الختان بالختان» سے منسوخ ہے، یا یہ حکم جماع سے متعلق نہیں صرف احتلام سے متعلق ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمہ الباب میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس شخص کا بیان جو خواب دیکھے اور منی نہ دیکھے۔`
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی پانی سے ہے “ ۱؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 199]
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی پانی سے ہے “ ۱؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 199]
199۔ اردو حاشیہ: ➊ ابتدائے اسلام میں یہ رخصت تھی کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے وظیفۂ زوجیت ادا کرتے ہوئے انزال سے قبل ہی بیوی سے الگ ہو جاتا تو اس پر غسل واجب نہیں تھا۔ اس کیفیت کو بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’پانی پانی سے ہے۔“ یعنی غسل منی کے خارج ہونے سے واجب ہوتا ہے۔ مگر یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ بعد میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی سے ہم بستری کرنے کے بعد ہر صورت میں غسل واجب قرار دے دیا۔ منی کا خروج ہو یا نہ ہو۔ جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے منسوخ ہونے اور مرد و عورت کے ختنے ملنے سے غسل واجب ہونے پر باب قائم کیا ہے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 338]
➋ ’’پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے واجب ہوتا ہے۔“ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر خواب میں کوئی ایسی صورت حال نظر آئے کہ اسے محسوس ہو کہ احتلام ہوا ہے لیکن بیدار ہونے پر جسم یا کپڑوں وغیرہ پر تری وغیرہ کے اثرات نمایاں ہوں تو غسل واجب ہو گا لیکن اگر تری وغیرہ کے اثرات نہ ہوں تو غسل کی ضرورت نہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ حدیث منسوخ نہیں، اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ باب قائم کیا ہے۔
➋ ’’پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے واجب ہوتا ہے۔“ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر خواب میں کوئی ایسی صورت حال نظر آئے کہ اسے محسوس ہو کہ احتلام ہوا ہے لیکن بیدار ہونے پر جسم یا کپڑوں وغیرہ پر تری وغیرہ کے اثرات نمایاں ہوں تو غسل واجب ہو گا لیکن اگر تری وغیرہ کے اثرات نہ ہوں تو غسل کی ضرورت نہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ حدیث منسوخ نہیں، اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ باب قائم کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 199 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 607 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔`
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 607]
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 607]
اردو حاشہ: (1)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے عمل زوجیت میں مشغول ہو’’پھر انزال سے قبل الگ ہونا پڑے تو غسل واجب نہیں ہوگا۔
لیکن یہ حکم شروع میں تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا۔
اب حکم یہ ہے کہ ہم بستری کے بعد غسل واجب ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو جیسا کہ اگلے باب کی روایات سے واضح ہے۔
(2)
پانی پانی سے واجب ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خواب میں کوئی ایسی صورت حال نظر آئے جس سے غسل فرض ہوا کرتا ہے لیکن بیدار ہونے پر جسم یا کپڑوں پر اس کے اثرات نظر نہ آئیں تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
غسل صرف اس صورت میں ضروری ہوگا جب اس کے اثرات عملی طور پر جسم یا کپڑوں پر موجود ہوں جیسے کہ حدیث: 612 میں بیان ہوگا۔
اس معنی کے لحاظ سے یہ حدیث منسوخ نہیں،
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے عمل زوجیت میں مشغول ہو’’پھر انزال سے قبل الگ ہونا پڑے تو غسل واجب نہیں ہوگا۔
لیکن یہ حکم شروع میں تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا۔
اب حکم یہ ہے کہ ہم بستری کے بعد غسل واجب ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو جیسا کہ اگلے باب کی روایات سے واضح ہے۔
(2)
پانی پانی سے واجب ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خواب میں کوئی ایسی صورت حال نظر آئے جس سے غسل فرض ہوا کرتا ہے لیکن بیدار ہونے پر جسم یا کپڑوں پر اس کے اثرات نظر نہ آئیں تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
غسل صرف اس صورت میں ضروری ہوگا جب اس کے اثرات عملی طور پر جسم یا کپڑوں پر موجود ہوں جیسے کہ حدیث: 612 میں بیان ہوگا۔
اس معنی کے لحاظ سے یہ حدیث منسوخ نہیں،
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 607 سے ماخوذ ہے۔