سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : عَدَدِ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1984
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ " صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا ، وَقَالَ : كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ` زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو ( اس میں ) پانچ تکبیریں کہیں ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔`
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1984]
1984۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، فائدہ حدیث: 1982۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1984 سے ماخوذ ہے۔