مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ : " خَلَقَهُمُ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1383 | صحيح البخاري: 6597 | صحيح مسلم: 2660 | سنن ابي داود: 4711 | سنن نسائي: 1954

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1383 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1383. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ سے اولاد مشرکین کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:’’جب اللہ تعالیٰ نے انھیں پیداکیا تھا تو وہ خوب جانتاتھا کہ وہ کیسے عمل کریں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1383]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے علم کے موافق سلوک کرے گا۔
بظاہر یہ حدیث اس مذہب کی تائید کرتی ہے کہ مشرکوں کی اولاد کے بارے میں توقف کرنا چاہیے۔
امام احمد اور اسحاق اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بیہقی نے امام شافعی سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔
اصولاً بھی یہ کہ نابالغ بچے شرعاً غیر مکلف ہیں، پھر بھی اس بحث کا عمدہ حل یہی ہے کہ وہ اللہ کے حوالہ ہیں جو خوب جانتا ہے کہ وہ جنت کے لائق ہیں یا دوزخ کے۔
مومنین کی اولاد تو بہشتی ہے، لیکن کافروں کی اولاد میں جو نابالغی کی حالت میں مرجائیں بہت اختلاف ہے۔
امام بخاری کا مذہب یہ ہے کہ وہ بہشتی ہیں، کیونکہ بغیر گناہ کے عذاب نہیں ہوسکتا اور وہ معصوم مرے ہیں۔
بعضوں نے کہا اللہ کو اختیار ہے اور اس کی مشیت پر موقوف ہے چاہے بہشت میں لے جائے‘ چاہے دوزخ میں۔
بعضوں نے کہا اپنے ماں باپ کے ساتھ وہ بھی دوزخ میں رہیں گے۔
بعضوں نے کہا خاک ہوجائیں گے۔
بعضوں نے کہا اعراف میں رہیں گے۔
بعضوں نے کہا ان کاامتحان کیا جائے گا۔
واللہ أعلم بالصواب (وحیدي)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1383 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2660 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کےبچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:"جب اللہ نے ان کوپیداکیاہے تو اسے یہ بھی خوب علم ہے،وہ کون سے عمل کرنے والےتھے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6765]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اہل سنت کے نزدیک، اللہ کو (ما كان) (جو ہو چکا ہے) (ما يكون) (جو ہو گا) (ما لا يكون)
جو نہیں ہو گا، (لو كان كيف كان يكون)
، اگر اس نے ہونا ہوتا تو کیسے ہوتا، سب کا علم ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2660 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔