مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1942
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قال : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے ، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا ، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا ، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ، اور ایک قیراط احد ( پہاڑ ) کے مثل ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جنازے کے ساتھ جانے والے کی فضیلت کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور ایک قیراط احد (پہاڑ) کے مثل ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1942]
1942۔ اردو حاشیہ: یہاں قیراط کی تخصیص کی ضرورت، اس لیے پڑی کہ مشہور وزن ’’قیراط تو انتہائی معمولی ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1942 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔