مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قال : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ ، فَقَالَ : " لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مردوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1937]
1937۔ اردو حاشیہ: کسی غائب شخص کی برائی ذکر کرنا تو زندگی میں بھی غیبت بن جاتی ہے جو سخت منع ہے، حالانکہ اس کی طرف سے دفاع ممکن ہے، تو ایک میت جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا اس کی برائی بیان کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے، نیز گناہوں اور کوتاہیوں سے کون پاک ہے؟ لہٰذا فوت شدہ کی برائی بیان نہ کی جائے بلکہ درگزر کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، البتہ امت مسلمہ کے مفاد کے لیے ضرورت کی حد تک کسی زندہ یا فوت شدہ کی برائی بیان ہو سکتی ہے، جیسے رجالِ حدیث کا فن۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1937 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔