أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَامِرٍ ، وَجَدَّهُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرُّوا بِجَنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " , ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَوْلُكَ الْأُولَى وَالْأُخْرَى وَجَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” : واجب ہو گئی “ ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں ، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”: واجب ہو گئی “، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” واجب ہو گئی “، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1935]