مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَامِرٍ ، وَجَدَّهُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرُّوا بِجَنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " , ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَوْلُكَ الْأُولَى وَالْأُخْرَى وَجَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” : واجب ہو گئی “ ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں ، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1492

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مردے کی تعریف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1935]
1935۔ اردو حاشیہ: فرشتے تحریری نامۂ اعمال پیش کریں گے اور انسان اپنا تجربہ اور معاملہ بیان کریں گے، دونوں کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1935 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔