حدیث نمبر: 1931
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قال : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ , فَقِيلَ : إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ , فَقَالَ : " إِنَّمَا قُمْنَا لِلْمَلَائِكَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ، آپ سے کہا گیا : یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم فرشتوں ( کی تکریم میں ) کھڑے ہوئے ہیں ، ( نہ کہ جنازہ کی ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أيضاً , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وللحديث شاهد ضعيف، عند أحمد (4/ 413). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1162) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے، آپ سے کہا گیا: یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہم فرشتوں (کی تکریم میں) کھڑے ہوئے ہیں، (نہ کہ جنازہ کی)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1931]
1931۔ اردو حاشیہ: جنازہ آتا دیکھ کر کھڑے ہونے کی تین وجوہات صحیح احادیث میں وارد ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے فائدہ حدیث نمبر 1928۔ یہ تینوں وجوہات اب بھی قائم ہیں، لہٰذا راجح موقف کے مطابق جنازہ آتا دیکھ کر کھڑا ہونا افضل اور مستحب ہے صرف وجوب منسوخ ہے۔ واللہ أعلم۔ نیز اس مسئلے کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي للإتبوبي: 92-87/19)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1931 سے ماخوذ ہے۔