سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْقِيَامِ لِجَنَازَةِ أَهْلِ الشِّرْكِ باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1922
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قال : كَانَ سَهْلُ ابْنُ حُنَيْفٍ ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا ، فَقِيلَ لَهُمَا : إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ , فَقَالَا : " مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ، فَقَالَ : أَلَيْسَتْ نَفْسًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ` سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ قادسیہ میں تھے ۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو دونوں کھڑے ہو گئے تو ان سے کہا گیا : یہ تو ذمی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے ، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” کیا یہ روح نہیں ہے ؟ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ قادسیہ میں تھے۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو دونوں کھڑے ہو گئے تو ان سے کہا گیا: یہ تو ذمی ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” کیا یہ روح نہیں ہے؟۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1922]
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ قادسیہ میں تھے۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو دونوں کھڑے ہو گئے تو ان سے کہا گیا: یہ تو ذمی ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” کیا یہ روح نہیں ہے؟۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1922]
1922۔ اردو حاشیہ: دین سے قطع نظر انسانیت کا بھی احترام ہونا چاہیے، نیز موت میں مسلم کافر سب برابر ہیں، پھر کافروں سے رواداری انہیں اسلام کے قریب لانے کا سبب بنے گی۔ اختلاف دین کی وجہ سے انسانی تقاضوں سے انحراف دین فطرت کے خلاف ہے۔ دین اسلام تو جانوروں تک سے ہمدردی رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1922 سے ماخوذ ہے۔